شاذ و نادر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کم، بہت کم۔ "ایک بات تمھارے دھیان میں رہے کہ میری غزل پندرہ سو بیت کی بہت شاذ و نادر ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، صحیفہ، لاہور، اپریل، جون، ٤ ) ٢ - منفرد، کمیاب و نایاب۔ "ایسی شاذ و نادر مثال سے وہ استدلال کرتے ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٢٧ ) ١ - کبھی کبھی، گاہے گاہے۔ "شاذ و نادر ہی اس علاقے میں مجھے اپنا کوئی ہم جماعت نظر آتا۔"      ( ١٩٨٦ء، دریا کے سنگ، ٦١ )

اشتقاق

عربی متعلق فعل 'شاذ' کے ساتھ 'و' بطور حرفِ عطف لگا کر عربی اسم صفت 'نادر' ملنے سے مرکب عطفی بنا۔ اردو میں بطور متعلق فعل نیز بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٤٩ء کو "مکتوباتِ سرسید" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کم، بہت کم۔ "ایک بات تمھارے دھیان میں رہے کہ میری غزل پندرہ سو بیت کی بہت شاذ و نادر ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، صحیفہ، لاہور، اپریل، جون، ٤ ) ٢ - منفرد، کمیاب و نایاب۔ "ایسی شاذ و نادر مثال سے وہ استدلال کرتے ہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٢٧ ) ١ - کبھی کبھی، گاہے گاہے۔ "شاذ و نادر ہی اس علاقے میں مجھے اپنا کوئی ہم جماعت نظر آتا۔"      ( ١٩٨٦ء، دریا کے سنگ، ٦١ )